کاروار23؍فروری (ایس او نیوز)ضلع کاروار میں ریت کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تعمیراتی مزدوروں،ٹھیکیداروں، انجینئروں اورریت فراہم کرنے والوں نے شہر میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیااور ضلع انتظامیہ کی معرفت حکومت کو میمورنڈم پیش کیا۔
اس سلسلے میں شہر کے مالادیوی کھیل میدان سے ریالی نکالی گئی جو اہم سڑکوں سے گزری ۔ اس دوران حکومت کی غلط پالیسی کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ریت اور جیلی (کڑی)نہ ملنے کی وجہ سے سڑکوں، مکانات اور دیگر تمام قسم کی تعمیرات ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔عام آدمی کو نہایت ہی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔اور سینکڑوں غریب خاندان بے بس اور لاچار ہوگئے ہیں۔ضلع بھر کے 1250ٹھیکیدار، 300 نجی انجینئرز، 80ہزار مزدور اور 1000لاریوں کے لئے کوئی کام دھندہ نہ ہونے سے سب کے سب کنگال ہوگئے ہیں۔
میمورنڈم میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریت نکالنے کے لئے مناسب قوانین بنائے جائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں دوسرے اضلاع سے بھی ریت لانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ریت نکالنے اور جیلی تیار کرنے کے کام کو کانکنی کی زمرے سے باہررکھنا ہوگا اور اسے ضروریات زندگی کی اشیاء کے درجے میں لانا ہوگا۔پتھر نکالنے اورکڑی مشینیں چلانے کی اجازت دوبارہ ضلع میں دی جانی چاہیے۔تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلقہ تمام افراد کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنی ہوگی۔